Alert Sign Dear reader, online ads enable us to deliver the journalism you value. Please support us by taking a moment to turn off Adblock on Dawn.com.

Alert Sign Dear reader, please upgrade to the latest version of IE to have a better reading experience

.

Having a rough day? Then we've got just the right thing for you.

Have a look at these heartwarming pictures submitted to us on Instagram through our weekly project #DWPsmiles:

#DWPsmiles #dawnweeklyproject #dawndotcom #dawn #smiles #childern #portrait #happy #pakistan

A photo posted by Xyed Naumi (@xyednaumi) on

August Vibes. #ThePeopleOfPakistan #dwpsmiles

A photo posted by S.J (@fictionography) on

ہمارے بکریوں کے ریوڑ میں ہر قسم کی بکریاں ہیں، ہر نسل کی بکری اپنی پہچان آپ رکھتی ہے اور اپنی مثال آپ ہے. کچھ نسلوں کے خصوصیات درج ذیل ہیں۔ پٹھان نسل: ہٹی گھٹی اور موٹی تکڑی ہونے کے ساتھ چست و چوپند اور لڑاکو۔ باقی بکریوں کو ان کی تو تو میں میں سمجھ نہیں آتی تھی اس لئے ان کا گروہ الگ تھلگ رہتا تھا. بلوچ نسل : بہت کمزور اور ہڈیاں نکلی ہوئی اور پورے جسم پر بڑے بال، ہر وقت غصہ میں پٹھان, پنجابی اور کشمیری بکریوں کے ساتھ ٹکریں مارتی رہتی. پنجاب نسل : یہ تھوڑی ماڈرن ٹائپ کی، نہ بچوں کو دودھ پلاتی اور نہ مالک کو، بچے بھی ایک دو دیتی، کشمیری نسل کی چال ڈھال کی دیوانی. سندھی نسل: سائیں تو سائیں پر سائیں کی بکری بھی سائیں، اللہ لوک نسل، فقر نہ فاقہ کا منظر۔ ہر نسل کے ساتھ دوستی ،باقی سب بھی اس نسل کو پسند کرتی. کشمیری نسل : خوبصورت اور چست پر گرمیوں میں ان کی جان نکل جاتی، بچہ اور دودھ دینے میں خاص نہیں، پٹھان اور بلوچی نسل ان کو زہر لگتی پر سندھی نسل کی سادگی اور پنجابی نسل کی آزادی پسند تھی. ایک دن اماں نے کہا کہ بیٹا کوئی خاص قسم کی نسل لاؤ جو ہمارے پاس نہ ہو۔ اور ہاں ساتھ میں ضمیر خان اور نفس خان کو لیتے جاؤ۔ یاد رکھو بکری وہی لانا جو ضمیر خان پسند کرے، نفس خان کی ایک بھی نہ سننا. ہم مویشیوں کی منڈی پہنچے اور یہاں پر بکریوں کی خوبصورت اور بہترین قسمیں موجود تھی، پاکستان کے ساتھ دنیا بھر کے بکرے اور بکریاں موجود تھی۔ خوبصورت بکریاں دیکھ کر نفس خان کی تو باچھیں ٹیڑہی ہوگئی پر ضمیر خان ادھر ادھر اپنی اور اماں کی پسند کی بکری دیکھنے میں مشغول، کیوں کہ پسند اس نے کرنی تھی. نفس خان: بھائی یہ بکری لے لو اس کا قد بھی بڑا ہے اور آنکھیں بھی پیاری ہیں۔ اور تو اور قیمت بھی کم. میں: ضمیر خان سے پوچھو وہی پسند کریگا. نفس خان نے غصے سے میری طرف دیکھ کر کہا "وہ خڑوس میری سنتا تو تہمیں تھوڑی کہتا" میں بھی مجبور تھا کیوں کہ امی کا حکم تھا کہ بکری صرف ضمیر پسند کریگا. " ادھر آئیں، یہ بکری دیکھیں اور مجھے یہی پسند آئی ہے" ضمیر خان نے ہمیں دور سے آواز دیکر پکارا. ہم فوراً گئے اور پوچھا بکری کہاں ہے. "یہ والی بکری جو اس بڑی خوبصورت بکری کے ساتھ کھڑی ہے"ضمیر خان نے ہاتھ کے اشارا کرتے کہا. وہ ٹیڈی بکری تھی اور واقعی میں اس نسل کی بکری ہمارے پاس نہیں تھی، بہت ہی کمزور ڈھانچا بنی ہوئی، کالی کلوٹی سی، جب چلتی تو یوں لگتا ابھی گری، گھاس بھی بہت کم کھاتی، امید نہیں تھی کہ یہ بچے اور دودھ دے پائے گی یا نہیں. بقیہ حصہ میرے کمینٹ اور فیس بک پیج پر مکمل تحریر. لنک پروفائل میں

A photo posted by Baloch Photographer | Pakistan (@balochlens) on

View all the submissions here.


Through #DawnWeeklyProject, we give photographers on Instagram a chance to have their pictures featured on our Instagram account as well as our website. Want to participate in our project? Then follow us on Instagram here and stay tuned!